53

سگریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے تیسرا ٹیکس سلیب لانے کی تیاریاں شروع

اسلام آباد،سگریٹ انڈسٹری کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایک بار پھر تیاریاں شروع ، سگریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے سگریٹ پرمجوزہ تیسرا ٹیکس سلیب لانے کی تیاری شروع ، اس سے قبل 2017 میں بھی یہ کہ کر یہ سلیب متعارف کروایا گیا تھا کہ ریونیو میں اضافہ ہو گا لیکن سگریٹ کمپنیوں نے اس تیسری سلیب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مہنگے سگریٹ سستے کر دیئے اور زیادہ فروخت ہونے والے سگریٹ پر تیسرے سلیب میں اربوں روپے کا ٹیکس بچا لیا ، سابقہ وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے یہ تیسرا سلیب ختم کروایا تھا ۔

پاکستان میں تمباکو کے کنٹرول کے حامیوں نے فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر)کے آئندہ قومی بجٹ میں سگریٹ پر تیسرے ٹیکس سلیب کو لاگو کرنے کے منصوبوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ لگتا یہ ہے یہ فیصلہ تمباکو انڈسٹری کے دباو کے تحت کیا گیا ہے، لگتا یہ ہے کہ صرف دو سالوں کے بعد صحت عامہ سے متعلق فیصلے میں تبدیلی تمباکو انڈسٹری سے ریونیو جمع کرنے کے لئے انہی کی ایما پر کیا جا رہا ہے حکومت کو چاہیئے کہ ریونیو کی بجائے صحت عامہ کو مقدم رکھے ۔یکم مئی 2021 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق “اسٹیک ہولڈرز” کے ایما پر ایف بی آر نے اس تجویز پر غور کیا کہ وہ اسمگل شدہ سگریٹ کے استعمال پر قابو پانے کے لئے تیسرے ٹیکس سلیب کو لاگو کرنا چاہتے ہیں ۔ ٹیکس حکام اور “اسٹیک ہولڈرز” تمباکو کی صنعت کے پیش کردہ “اعداد و شمار” پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد تیسرے ٹیکس سلیب کو لاگو کرنے کی دوبارہ تشہیر و حمایت کر رہے ہیں۔کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ذیشان دانش نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ، بتایا جائے کہ وہ کون کون سے اسٹیک ہولڈر ہیں جنہوں نے سگریٹ پر ٹیکس کے تیسرے سلیب کا نظام تجویز کیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا صحت عامہ سے متعلق فیصلہ لینے کے دوران تمباکو کنٹرول سیل ، وزارت قومی صحت اور تمباکو کنٹرول کے نمائندے شامل تھے۔ انہوں نے کہا ، “دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق تمباکو کی صنعت کی جانب سے پیش کردہ ” اعداد و شمار “پر تبادلہ خیال کے بعد تیسرے ٹیکس سلیب کے نظام کو دوبارہ متعارف کرایا جارہا ہے۔وزارت این ایچ ایس آر سی کے تمباکو کنٹرول سیل نے تمباکو کی صنعت کے سمگل شدہ سگریٹ پر مشتمل 40 فیصد سے زائد مارکیٹ شئیر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں یہ 16 فیصد سے بھی کم ہے جسے تمباکو انڈسٹری اپنے فائدے کے لئے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر اسمگلنگ پر قابو پانے کے لئے مضبوط اقدامات کرنے کی بجائے سگریٹ پر ٹیکس کے تیسرے سلیب کے نفاذ کے ذریعے جانے انجانے میں تمباکو انڈسٹری کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ذیشان دانش نے مزید کہا کہ سگریٹ پر ٹیکس کے تیسرے سلیب کے دوبارہ لاگو کرنے سے وزارت صحت اور تمباکو کے کنٹرول کے حامیوں کی عوامی صحت کی حفاظت کے لئے WHO کے انسداد تمباکو سے متعلق فریم ورک کنونشن (ایف سی ٹی سی) کے تحت کی گئی دہائیوں پر مشتمل جدوجہد کو دھچکا لگے گا ۔ مجوزوہ اقدام کو لاگو کرنے سے پاکستان کو ایک اور بین الاقوامی فورم پر شرمندگی کا سامنا کرنا ہو گا جہاں پاکستان اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے جدو جہد کر رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں